لطف آور ہے آج کا موسم

پُر کشش اورخوشنما موسم
لطف آور ہے آج کا موسم

رخ پہ مسکان ہے کسانوں کے
لے کے برسات آگیا موسم

بن تمھارے یہ دن نہیں کٹتے
تم سے بہتر نہیں لگا موسم

سر پہ گر رنج و غم کےبادل ہیں
لائے گا کیا بھلا قضا موسم

ٹھنڈ ہو گرمی ہو یا ہو برسات
ایک رہتا نہیں سدا موسم

مہ جبینوں کے ہوش اڑجائیں
اپنا جلوہ ذرا دکھا موسم

آج "شاداب” ہے بہت شاداب
کیونکہ اچھا اسے ملا موسم

(پُر کشش اورخوشنما موسم)
(لطف آور ہے آج کا موسم)

از قلم :- شاداب اعظمی
چریاکوٹ مئو


دل کے چین و قرار کا موسم

چاہا تھا قربت کا موسم

کتنا تھا البیلا موسم

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں