میں اپنے دوستوں کو عِید پربھیجوں تو کیا بھیجوں

میں اپنے دوستوں کو عِید پربھیجوں تو کیا بھیجوں

عیدی

شورش کاشمیری نے یہ نظم آج سے

55 سال قبل کہی تھی

میں اپنے دوستوں کو عِید پربھیجوں تو کیا بھیجوں

خدا توفیق دے تو، ھدیۂ مہر و وفا بھیجوں

لڑکپن کی رسِیلی داستانوں کے لبادے میں

حدیثِ شوق، نقدِ آرزُو، آہِ رساں بھیجوں

جَوانی کے شگُفتہ وَلولوں کا تذکرہ لِکھ کر

طبیعت کا تقاضا ھے، دلِ درد آشنا بھیجوں

وہ راضی ہو تو،اپنی عُمرکے اس دورِآخرمیں

بیانِ شوق لکھوں، داستانِ ابتلا بھیجوں

‘قلم قتلے’ ادیبِ شہر ہونے کی رعایت ہے

غزل کے ریشمی لہجے میں نظمِ دلکشا بھیجوں

کوئی نظمِ شگفتہ، حضرتِ احسان دانش کی

رشید احمد کے اسُلوبِِ دل آرا کی ادا بھیجوں

زبانِ میر، رنگِ میرزا، پیرایۂ حالی

میں اس سہ آتشہ میں، نغمۂ بہجت فزابھیجوں

خیال آتا ہے ‘اس بازار’ کی نیلام گاہوں میں

کِسی طوفان کے انداز میں، قہرِ خدا بھیجوں

برہنہ کَسبیوں کو عید کے ہنگامِ عشرت میں

فقِہیوں کی قبائیں پھاڑ کر بندِ قبا بھیجوں

تماشاہائے عصمت، اور ‘عالمگیر کی مسجد’

خدا کے نام بھی اک محضرِ آہ و بکا بھیجوں

میری عیدی مذاقِ عام سے ہو مختلف شورش

رفیقانِ قلم کو، ڈَٹ کے لڑنے کی دُعا بھیجوں

ھفت روزہ چٹان. لا ھور

7 فروری 1965

شورش کاشمیری

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں