میں اور شہر

میں اور شہر

منیر نیازی

سڑکوں پہ بے شمار گل خوں پڑے ہوئے
پیڑوں کی ڈالیوں سے تماشے جھڑے ہوئے

کوٹھوں کی ممٹیوں پہ حسیں بت کھڑے ہوئے
سنسان ہیں مکان کہیں در کھلا نہیں

کمرے سجے ہوئے ہیں مگر راستہ نہیں
ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں

آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں

منیر نیازی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں