میں ہوں بُلبُل جس چمن کا وُہ چمن آزاد ہے

فضلِ ربِ ذو المنن میرا وطن آزاد ہے
میں ہوں بُلبُل جس چمن کا وُہ چمن آزاد ہے

کاش نفرت اور تعصّب ختم ہوویں ہند سے
تب کہیں گے جھوم کر میرا وطن آزاد ہے
ق
اِس صفت سے متصف ہو جائے گر ہندوستاں
ہم کہیں گے ہند اپنا مِن و عن آزاد ہے

گل کھلیں گے چار سو ، ہوگا سویرا ہر طرف
میرے ہندوستان کا دشت و دمن آزاد ہے

رائے کے اظہار پر بھرپور ہوں مختار میں
لب مرا آزاد ہے میرا دہن آزاد ہے

ہر کوئی اپنی روِش پر قائم و دائم ہے یاں
ہر کسی کی طرز ، سب کا بانکپن آزاد ہے

فضلِ حق ، اشفاق اور عبّاس کے خوں کے عوض
ہے یہاں آزاد گنگا اور جمن آزاد ہے

جھوم کر گاؤ ترانے ہند کے عرشی میاں
یومِ آزادی مناؤ ، اب زمن آزاد ہے

(فضلِ ربِ ذو المنن میرا وطن آزاد ہے)
(میں ہوں بُلبُل جس چمن کا وُہ چمن آزاد ہے)

از: غلام محی الدین "جیلانی عرشی”


کیا سناؤں تمہیں داستانِ وطن

مرا دل جگر ہے مری جاں وطن

نازنیں دلنشیں ہے یہ پیارا وطن

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں