میں اسے پیار کروں یا نہ کروں

میں اسے پیار کروں یا نہ کروں

سچ بتا یار کروں یا نہ کروں 

میں تجھے خوار کروں یا نہ کروں 

حسرت دید لیے حاضر ہوں

بول، دیدار کروں یا نہ کروں

لڑتی رہتی ہے جو مجھ سے ہر دم

میں اسے پیار کروں یا نہ کروں

پیار بچپن میں ہوا تھا جس سے

اس سے اظہار کروں یا نہ کروں

سنگ باری جو کریں میں ان پر

پھول سے وار کروں یا نہ کروں

کر کے قابو میں خیالوں پہ ترے

کچھ چمتکار کروں یا نہ کروں

ہر طرف اردو ادب کا امجد

خوب پرچار کروں یا نہ کروں

از: امجد شمسی


کشمکش میں ہوں تجھے یاد کروں یا نہ کروں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں