مولی کرے سب کے لیے خوشحال نیا سال

مولی کرے سب کے لیے خوشحال نیا سال

سنتا ہوں کہ آیا ہے پھر امسال نیا سال
چل لکھتا ہوں کچھ از روئے اجمال نیا سال

بے شرم جواں تیری جوانی پہ ہے افسوس
کی کلیوں کی تو عزتیں پامال نیا سال

بدکاری تری دیکھ کے آنکھوں سے ہماری
ہے پھوٹ پڑا چشمۂ سیال نیا سال

لا حول وہ پڑھتے ہوئے دے رب کی دہائی
دیکھے جو کوئی آپ کے احوال نیا سال

یہ عیش پرستی کا کوئی دن نہیں صاحب
ہے رونے کی جا دیکھ کے اعمال نیا سال

لاریب لٹا دولت و ثروت کی بہاریں
لیکن اسی پر جو کہ ہے بد حال نیا سال

کیا پڑھ کے دل و جان کو تکلیف ہے پہنچی
اک خط جو کیا آپ کو ارسال نیا سال

میں نے تو جسیم اس سے یہی التجا کی ہے
مولی کرے سب کے لیے خوشحال نیا سال

از__محمد جسیم اکرم مرکزی


 

ہند آزاد ہے ہند آزاد ہے

آہ بابری مسجد کی آواز

ہم نے گر سیرت آقا نہ بھلائی ہوتی

Share this on

آرکائیوز

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں