میرے رشکِ قمر تُو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آگیا

مزا آگیا

فنا بلند شہری

 

میرے رشکِ قمر تُو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آگیا
برق سی گِر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آگیا

جام میں گھول کر حُسن کی مستیاں چاندنی مُسکرائی مزا آگیا
چاند کے سائے میں اے میرے ساقیا تُو نے ایسی پلائی مزا آگیا

نشہ شیشے میں انگڑائی لینے لگا بزمِ رِنداں میں ساغر کھنکنے لگے
مئے کدے پہ برسنے لگیں مستیاں جب گھٹا گِر کے چھائی مزا آگیا

بے حجابانہ وہ سامنے آ گئے اور جوانی جوانی سے ٹکرا گئی
آنکھ اُن کی لڑی یُوں میری آنکھ سے دیکھ کر یہ لڑائی مزا آگیا

آنکھ میں تھی حیا ہر ملاقات پر سُرخ عارض ہوئے وصل کی بات پر
اُس نے شرما کے میرے سوالات پہ ایسے گردن جُھکائی مزا آگیا

شیخ صاحب کا اِیماں بِک ہی گیا دیکھ کر حُسنِ ساقی پگھل ہی گیا
آج سے پہلے یہ کتنے مغرور تھے لُٹ گئی پارسائی مزا آگیا

اے فناؔ شکر ہے آج بعدِ فنا اُس نے رکھ لی میرے پیار کی آبرُو
اپنے ہاتھوں سے اُس نے مری قبر پر چادرِ گُل چڑھائی مزا آگیا

فنا بلند شہری

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں