مرا خدا جسے چاہے وقار دیتا ہے

مرا خدا جسے چاہے وقار دیتا ہے
پریشاں حال کو پل میں نکھار دیتا ہے

پلک جھپکتے ہی دنیا کی سیر کرتے ہیں
وہ اپنے بندوں کو یوں اختیار دیتا ہے

زمانے والے اگر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
تو بے سہاروں کے دل کو قرار دیتا ہے

کمی نہیں ہے کوئ اس کے کُل خزانے میں
وہ جسکا چاہے مقدّر سنوار دیتا ہے

وہی ہے خالق و مالک وہ اپنی قدرت سے
گلوں کو رنگ، چمن کو بہار دیتا ہے

اسی سے مانگو جو قادر ہے کلِّ شيءٍ پر
وہ ایک بار نہیں بار بار دیتا ہے

ادیب ہے وہ بڑا ہی کریم تیرا رب
جو بادلوں سے بھی پانی اتار‌ دیتا ہے

محمد ادیب رضا بدایونی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں