میرا خدا میرا پروردگار دیتا ہے

میرا خدا میرا پروردگار دیتا ہے
گلوں کو رنگ ، چمن کو بہار دیتا ہے

اسی کو دونوں جہاں میں خوشی میسر ہے
جو اس کی یادوں میں عمریں گزار دیتا ہے

خدا کا خوف جو دل میں بساے رہتا ہے
اسی کو رب مرا عزو وقار دیتا ہے

میرا خدا میرا مولیٰ کریم ایسا ہے
نہ مانگوں پھر بھی مجھے بے شمار دیتا ہے

وہی خدا ہے شکم میں جو ایک قطرے سے
بشکل انس وہ نقشہ اتار دیتا ہے

وہی ہے مالک ارض و سما وما فیھا
وہ جس کو چاہے اسی کو وقار دیتا ہے

چھپا چھپا کے ہماری خطائیں دنیا سے
وہ ہم نکموں کو موقع ہزار دیتا ہے

غلام جیلانی حبیبی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں