میرے چہرے کی ہے بہار وطن

دھول تیری ترا غبار وطن
میرے چہرے کی ہے بہار وطن

سر میں تیری وفا کا سودا ہے
اور دل میں ہے تیرا پیار وطن

تیری عظمت پہ آنچ آئے اگر
جان کر دیں گے ہم نثار وطن

کام ایسا نہیں کرے کوئی
جس سے ہو جائے شرمسار وطن

تیری ندیاں تِرے پہاڑ غضب
خوب رو تیرے آبشار وطن

تو ہے وہم و گماں سے بالا تر
تو یقیں ہے تو اعتبار وطن

دوستوں کی کریں گے گل پوشی
اور دشمن کو سنگسار وطن

کیوں ڈریں ہم شفیقؔ ، دنیا سے
جب ہمارا ہے پاسدار وطن

(دھول تیری ترا غبار وطن)
(میرے چہرے کی ہے بہار وطن)

شفیقؔ رائے پوری
جگدلپور ضلع بستر
چھتیس گڑھ انڈیا


 

تجھ پہ سو جان سے قربان مری جان وطن

یہ سچ ھے کہ بھارت کا ثانی نہیں ھے

ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں