مرے سرکار کی ایسی زباں ہے

مرے سرکار کی ایسی زباں ہے
سخن جس کی ہراک جنت نشاں ہے

خدا کا قرب ہے اس کو میسر
وہی ہستی مکین لامکاں ہے

مسلم ہیں جناں کی رونقیں سب
مدینہ تو مگر رشک جناں ہے

مشام عطر ہے ہستی نبی کی
معطر جن سے ساری کہکشاں ہے

سبب ایجاد عالم کے تمھیں ہو
تمھاری ذات وجہ کن فکاں ہے

جہاں اور اس کی ہر شئ مثلِ رائی
ہتھیلی پر تری کیسے عیاں ہے!

شہ لولاک کی مدحت کرے یہ
مشاہد کی مجال اتنی کہاں ہے

(مرے سرکار کی ایسی زباں ہے)
(سخن جس کی ہراک جنت نشاں ہے)

از؛ مشاہد رضا قادری مصباحی


 

مداواے مرض ہے دافع جملہ وبا تو ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں