موہن داس سے موہن بھاگوت تك

"ظلم سہ لینگے مگر دیش پر آنچ نہیں آنے دینگے "
اسی پس منظر میں یہ نظم آپ کے حضور

موہن داس سے موہن بھاگوت تك
______________

بھاگوت نے ایک دن پوچھا یہ موہن داس سے
اے امام مسلک عدم تشدد ! یہ بتا

سسکیاں اہل حرم کی مجھ کو سامان طرب
موج دود آہ سے ٹوٹے ہے آئینہ ترا

آج تک زناریوں کو یہ سمجھ آیا نہیں
تو شرار بولہب ہے یا چراغ مصطفی

دشت گنگا میں بھی چرچے ہیں ترےہنگامہ خیز
نجد کا صحرا بھی سمجھا ہے تجھے حاجت روا

جسم پر کپڑے برائے نام چشمہ چشم پر
سر خمیدہ ہاتھ میں بوجھل ضعیفی کا عصا

سرکشی اس سر میں جو بے بال و بےدستار ہے
پاؤں جو آرام دہ نعلین سے نا آشنا

سادگی پر فکر کی قاتل اداؤں کا لباس
حلقہ زن تیرے حصار ذہن میں موج بلا

کیوں زمانے میں ترا تشٹیکرن مشہور ہے
اس تری مسلم نوازی کا ہے آخر راز کیا

جواب___

یوں جواباً ایم کے گاندھی نے فرمایا خطاب
اے دل نا عاقبت اندیش ، بے فہم و ذکا

ہے نہاں یہ راز ناداں تیری چشم کور سے
مضطرب ہے تو برنگ کاغذ آتش زدہ

کیوں تعجب ہے مرے عدم تشدد پر تجھے
دل کا کانٹا نوک خنجر سے کبھی نکلا ہے کیا

ہے مرا مقصود بھی بھارت میں آئے رام راج
ہے مگر میرا طریقہ غیر سے بدلا ہوا

جبر کی لعنت سےمحروموں میں بیداری کاڈر
صبر کی تلقین سے بے بس مروت آشنا

کیا ضروری ہے کھلےخنجر سے ہو حاصل مراد
آ ، یہ نشتر دیکھ زیر آستیں رکھا ہوا

دیکھ کچھ آئینہء تاریخ اقوام و ملل
غور کر ناداں کہ بے طوفان نہیں دریا ترا

اک فریب حسن ظن ہے یہ مرا تشٹیکرن
اور یہ مسلم نوازی وہم ہے ناداں ترا

ناروا ہم پر ہر اک تشٹیکرن کا اتہام
کیا دیا ہے ان کو ہاں دینے کا بس غوغا کیا

پوچھ دل سے کیا دیا ان کو پچھتر سال میں
ممبری اوقاف کی یا حج کمیٹی کے سوا

کچھ وظیفے کچھ رعایت اور قبروں کو زمین
اور بس کیا مانگتے ہیں کل کے یہ فرمانروا

چھوڑ کوٹھاری کمیشن دیکھ سچر کی رپورٹ
رفتہ رفتہ کس نے حاکم کو گداگر کردیا

جن کےدرباروں میں جھکتےتھےشہنشاہوں کےسر
کیا ہوا ، کس نے انھیں پچھڑوں سےپچھڑا کردیا

رفتہ رفتہ دوسرے درجے کے شہری ہوگئے
جن کے آگے تھا ہمالہ سرنگوں ہوتا ہوا

لذت تقریر سے محروم ہیں وہ تاج ور
مہر بر لب جن کے آگے تھا کبھی ہر بولتا

کانپ جاتے تھی پرندے جن کی اک پرواز سے
دانہء عصفور کے ہیں آج وہ شاہیں گدا

یہ کرشمہ ہے ہماری حکمت نایاب کا
تم جو ہنسا سے نہ کر پاتے اہنسا سے کیا

دینداروں کو دیا جام شراب قومیت
اور بے دینوں کو آزادی کا دیوانہ کیا

مولوی کو دے کے فکر ملک و ملت کا حشیش
ملک کو دنیا میں ملت پر مقدم کردیا

کیا یہ کم ہے اب جہان جبہء و دستار بھی
ہے فریب حلقہء جمہور میں الجھا ہوا

دشمنی ہم کو مرض سےہےمریضوں سے نہیں
جن کے ذہنوں میں ابھی تک ہےنظام مصطفی

جانتے ہیں "ملک ما” "ملک خدائے ما” کا راز
یعنی ہے دھرتی خدا کی اور ہم فرمانروا

جبرکی گرمی سےمنھ کی پھونک سےبجھتانہیں
اے شرار بو لہب ، نور چراغ مصطفی

زلزلے ہیں شب کے ایوانوں جس آواز سے
آرہی ہے کوہ کابل سے وہی بانگ درا

ٹھوکروں میں خاک آلودہ ہے تہذیب فرنگ
ہے بڑی مشکل میں خود اقوام کا مشکل کشا

قیصریت بھی جھکا پانےسےعاجز ہے انھیں
ہے تمہارے پاس کیا اک زعم کثرت کے سوا

یہ غنیمت ہے کہ ملت کی تجارت کے لئے
ہیں ابھی موجود ان میں کچھ حریص عزوجاہ

چاہتےکیا ہیں فقط ایک نامزد سنسد کی سیٹ
یہ مسلمانوں کی خوشحالی کے سرکاری گواہ

چشم مہر و ماہ و اختر نے نہ دیکھا تھا کبھی
حامل تکبیر یوں تکبیر سے سہما ہوا

کوئی ہنسا لا نہ سکتی تھی انھیں اس موڑ پر
ہم نے تدریجاً جہاں آرام سے پہونچا دیا

عالمی امت کے بال و پر اسیر قومیت
درس اب خود مولوی دیتا ہے جس کا برملا

رخ سے غازہ بھی شرافت کا نہ چھوٹے وہ کرو
سانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے وہ کرو

آگ پانی سے بجھے گی یا رسیلے جھاگ سے
آگ ناداں بجھ نہیں سکتی کبھی بھی آگ سے

سرفراز بزمی
سوائی مادھوپور راجستھان
انڈیا  09772296970 

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں