ملک کا ہر بچہ ، بوڑھا اور جواں آزاد ہے

سطوت ارض وطن کا ہر نشاں آزاد ہے
ملک کا ہر بچہ ، بوڑھا اور جواں آزاد ہے

ان بہادر نوجوانوں کی وفاؤں کو سلام
جن کی قربانی سے یہ ہندوستاں آزاد ہے

سرفروشان وطن نے خون سے سینچا اسے
غنچے چٹکیں، پھول مہکیں، گلستاں آزاد ہے

جگنو فرحت کے، فضا میں بھر رہے ہیں جو اڑان
قید افرنگی سے تاب کہکشاں آزاد ہے

اے زمین ہند تیرے قومی پرچم پر نثار
جس کی عظمت کی بدولت کاراں آزاد ہے

چھائے ہیں سائے فرنگی فکر کے ہر فرد پر
جسم ہے آزاد لیکن دل کہاں آزاد ہے

آنسوؤں سے کیسے ہو سکتا ہے کفارہ ادا
جب ہوا سیل لہو سے یہ مکاں آزاد ہے

روح فرسا کیسا تھا "فاتح” غلامی کا وہ دور
شکر ہے اب کربت و کلفت سے جاں آزاد ہے

(سطوت ارض وطن کا ہر نشاں آزاد ہے)
(ملک کا ہر بچہ ، بوڑھا اور جواں آزاد ہے)

فاتح چشتی مظفرپوری


تُجھ کو آزادی فرنگی سے دلایا ہے وطن

ہند آزاد ہے ہند آزاد ہے

فضل حق، اشفاق و کافی کا وطن آزاد ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں