نبی کا چاہنے والا ہی بس نجات میں ہے

جہاں میں ان کاجو دشمن ہے مشکلات میں ہے
نبی کا چاہنے والا ہی بس نجات میں ہے

غزل کی دنیا سے رکھتا نہیں غرض کچھ بھی
مزہ تو مجھ کو رسولِ خدا کی بات میں ہے

نبی تو آئے ہیں لاکھوں مگر ترے جیسا
قسم خدا کی نہیں پوری کائنات میں ہے

انھیں کو نور مجسم بنایا ہے رب نے
انھیں کی روشنی پھیلی سبھی جہات میں ہے

جو عاشقانِ نبی ہیں وہ شاد رہتے ہیں
"یہ بات برسوں سے میرے مشاہدات میں ہے”

درِ رسول پہ جاؤں تو موت آجائے
یہی تو دل کی مری پہلی خواہشات میں ہے

جسے بھی چاہیں عطا کردیں آپ سلطانی
حضور آپ کی یہ چشمِ التفات میں ہے

وہ جس کا چاہیں مقدر سنوار دیں پل میں
خدا کے فضل سے ان کے تصرفات میں ہے

ملے ہیں جتنے کمالات اور نبیوں کو
ہراِک کمال مرے مصطفٰی کی ذات میں ہے

وہ لطف "نور” کہیں بھی نہیں ہے دنیا میں
جو شہرِ طیبہ کی دلکش حسین رات میں ہے

نورالہدیٰ نور مصباحی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں