نبی کا روضۂ اطہر جہاں ہے

نبی کا روضۂ اطہر جہاں ہے
زمیں ہر گز نہیں وہ،آسماں ہے

مرے سرکار مجھ پر بھی کرم ہو
غموں کاسر پہ اک کوہِ گراں ہے

جہاں ہے قدسیوں کا آنا جانا
مرے سرکار کا وہ آستاں ہے

غلامِ شاہ بطحا ہوں میں ان پر
نچھاور مال و دولت اور جاں ہے

در سرکار پر ہم بولیں اونچا
"اب اتنی بھی ہمیں جرات کہاں ہے”

انھیں رب نے بنایا نوری پیکر
منور ان کے دم سے کل جہاں ہے

جو کرتا ہے نبی کا ذکر ہر دم
بہت ہی معتبر اس کی زباں ہے

خدا "شاداب” کو شاداب رکھنا
دعا جو دے رہی ہے، میری ماں ہے

(نبی کا روضۂ اطہر جہاں ہے)
(زمیں ہر گز نہیں وہ،آسماں ہے)

 

رشحات قلم ۔شاداب اعظمی
چریاکوٹ ،مئو


 

نبی کی نعت جو ورد زباں ہے

رسول اللہ کا جو مدح خواں ہے

تو ہی وہ سرورِ کون و مکاں ہے

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں