نبی کی نعت جو ورد زباں ہے

ہماری فکر مثل گلستاں ہے
نبی کی نعت جو ورد زباں ہے

جو شیدائے شہ کون و مکاں ہے
قدم کے نیچے اس کے آسماں ہے

اسی کو کردیا مولی نے قبلہ
رسول اللہ کی مرضی جہاں ہے

جو ہم کر پائیں ان سے ہم کلامی
"اب اتنی بھی ہمیں جرأت کہاں ہے”

وہاں کرتے ہیں دورہ حور و غلماں
جہاں پر آپ کا آقا مکاں ہے

ہمارے ظاہر و باطن کی حالت
شہنشاہ دو عالم پر عیاں ہے

جو ہے شیدائے آقاے دوعالم
اسی پر رب تعالی مہرباں ہے

عیاض آقا کی مدحت کے تصدق
ہماری فکر کا روشن جہاں ہے

(ہماری فکر مثل گلستاں ہے)
(نبی کی نعت جو ورد زباں ہے)

 

از قلم : محمد عیاض رضا عطاری


 

رسول اللہ کا جو مدح خواں ہے

 

تو ہی وہ سرورِ کون و مکاں ہے

 

وہاں پر رحمتوں کا سائباں ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں