نسل اس کی مشک بو ہونے لگی

نسل اس کی مشک بو ہونے لگی

جب سے ہستی باوضو ہونے لگی
خوب سیرت خوبرو ہونے لگی

جو بھی شے محبوب آقا کو ہوئی
اس کی شہرت کوبکو ہونے لگی

میں نے ان کو ماوی و ملجا کیا
چاک تھی ہستی رفو ہونے لگی

عرق آقا جس دلہن کو مل دیا
نسل اس کی مشک بو ہونے لگی

قتل سے بیٹی بچی ان کے طفیل
عورتوں کی آبرو ہو نے لگی

نیک و بد سمجھے اور آقا آپ سے
نیکیوں کی جستجو ہونے لگی

یارسول اللہ مدد فرمائیے
کافروں سے دوبد ہونے لگی

کہہ دیا جب سے مغیرہ ہے زنیم
تب سے تھو تھو چارسو ہونے لگی

اعلی بننے کو چلے تھے پر نقل
کب اصل کے ہوبہو ہونے لگی

تھی تمنا کار دیں اکبر کرے
پوری اس کی آرزو ہونے لگی

از محمد اکبر علی برکاتی باگی جالون


يه بھي پڑھيں:

اُن کی جس دم گفتگو ہونے لگی

رسی تو جل چکی ہے ابھی تک نہ بَل گیا

اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں