نظر نظر کو وہ جلوے ہزار دیتا ہے

نظر نظر کو وہ جلوے ہزار دیتا ہے
"گلوں کو رنگ ، چمن کو بہار دیتا ہے”

وہ چاہتا ہے تو فرعون غرق ہوتا ہے
جنابِ موسیٰ کو زندہ گزار دیتا ہے

نجات دیتا ہے بے شک غم و الم سے وہی
نفَس نفَس میں مَسرّت اتار دیتا ہے

وہی زمینوں کو زرخیز کرنے والا ہے
وہ فصل فصل کو پل میں نکھار دیتا ہے

اسی نے نت نئے موسم سے شاد کام کیا
وہ رزقِ تازہ ، ہوا مُشک بار دیتا ہے

چہار سمت رواں بحرِ جُود ہے اُس کا
سبھی کو نعمتیں پروردگار دیتا ہے

کلامِ رب سے یہ ظاہر ہے مثلِ ماہِ منیر
اُسی کا ذکر دلوں کو قرار دیتا ہے

وہ چھین لیتا ہے منصب بھی عزّ و دولت بھی
وہ جس کو چاہے اُسی کو وقار دیتا ہے

وہی مشاہدِ رضوی کو دے کے رزقِ سخن
تخیلات کی زلفیں سنوار دیتا ہے

عرض نمودہ : محمد حسین مشاہد رضوی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں