نوری کا جھولا بچوں كي نظم

نوری کا جھولا بچوں كي نظم

نوری نے بھی خواہش کی تھی
وہ بھی اب جھولا جھولے گی
پاپا لے کر آئے جُھولا
گدا جس کا پُھولا پھولا
سوہنا اور پیارا جھولا
پکے رسوں والا جھولا
جھولا اوپر نیچے جائے
نوری کے وہ من کو بھائے
جھولے لے کر مزا آیا
جب جھولے کو تیز چلایا
جھولا ہے یہ نیلا پیلا
اور دِکھتا ہے رنگ رنگیلا
جب بھی جھولا جھولے نوری
خوشی سے کتنا پھولے نوری
ماما پاپا کی شہزادی
لگتی ہے وہ پریوں جیسی

صاعقہ علی نوری۔۔اسلام آباد


میں اور شہر

آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں