صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے

صبح نو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے
اور ہوں گے جو ہلاک شب ہجراں ہوں گے

صدمۂ زیست کے شکوے نہ کر اے جان رئیسؔ
بخدا یہ نہ ترے درد کا درماں ہوں گے

میری وحشت میں ابھی اور ترقی ہوگی
تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے

آزمائے گا بہرحال ہمیں جبر حیات
ہم ابھی اور اسیر غم دوراں ہوں گے

عاشقی اور مراحل سے ابھی گزرے گی
امتحاں اور محبت کے مری جاں ہوں گے

قلب پاکیزہ نہاد و دل صافی دے کر
آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

صدقۂ تیرگیٔ شب سے گلہ سنج نہ ہو
کہ نئے چاند اسی شب سے فروزاں ہوں گے

آج ہے جبر و تشدد کی حکومت ہم پر
کل ہمیں بیخ کن قیصر و خاقاں ہوں گے

وہ کہ اوہام و خرافات کے ہیں صید زبوں
آخر اس دام غلامی سے گریزاں ہوں گے

صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی
نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

رئیس امروہوی

Share this on

متعلقہ اشاعت

نشتر میرٹھی كا تعارف

نشتر میرٹھی كا تعارف نام: سرداری لال تخلص: نشتر میرٹھی سن ولادت: 1898ء جائے ولادت: میرٹھ، اتر پردیش، بھارت پنڈ سرداری لال نشتر میرٹھی کو

مزید پڑھیں

آتش كا تعارف

آتش كا تعارف نام: ڈاکٹر رمیش پرشاد گرگ تخلص: آتش تاریخ ولادت: 23 جولائی 1943 جائےولادت: بنارس، اترپردیش، بھارت ڈاکٹر رمیش پرساد گرگ آتش کے

مزید پڑھیں

جواب دیں