رنج وغمِ حیات کا کانٹا نِکل گیا

رنج وغمِ حیات کا کانٹا نِکل گیا
اُن کی عنایتوں سے مرا دِل سنبھل گیا

اِک نظرِ التفات اُنھوں نے جو ڈال دی
مارے خوشی کے آج تو میں بھی اُچھل گیا

اُن کی تَوجُّہات ہی مِلنے کی دیر تھی
سوے ہوے نصیب کا نقشہ بدل گیا

وہ بے نقاب آئے تو پھیلی تھی روشنی
پردے میں کیا گئے کہ لگا دِن ہی ڈھل گیا

شاید انھوں نے مجھ کو دُعا میں کیا ہے یاد
طُوفان، میری کشتی سے بچ کر نکل گیا

شیریں لبی تھی اُن کی بھلا کس قدر حَسِیں
پتھر نے بھی سُنا تو خوشی سے پِگھل گیا

بُوے کبابِ آہو سے مہکی مشامِ جاں
"شاید جِگر حرارتِ عشقی سے جَل گیا”

مشکل ہے، خاردار ہے، عارف! یہ راہِ عشق
قسمت کا وہ دَھنی ہے جو بچ کر نکل گیا

(رنج وغمِ حیات کا کانٹا نِکل گیا)
(اُن کی عنایتوں سے مرا دِل سنبھل گیا)

غیاث الدین احمد عارف مصباحی


يه بھي پڑھيں:

جو مصطفٰے کے عشق کے سانچے میں ڈھل گیا

کیوں خبیثوں کو نہ کھٹکے طیبہ عالی جناب

14 فروری ویلنٹائنس ڈے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں