سامنے میرے جب بھی آتے ہو

سامنے میرے جب بھی آتے ہو
ایسا لگتا ہے کچھ چھپاتے ہو

پہلے آنکھوں کے رستے آتے ہو
اور پھر دل میں گھر بناتے ہو

قاتلانہ اداؤں کے صدقے
جان لینے کو مسکراتے ہو

ٹوٹ کر تارے گرنےلگتےہیں
رات میں جب بھی کھلکھلاتےہو

وعدۂ وصل بارہا توڑا
جان جاں اتنا کیوں ستاتےہو

ابرؤں سے کیا ہے دل زخمی
اور اوپر سے جاں جلاتے ہو

رات بھر سونے ہی نہیں دیتے
ساتھ یادوں کے آتے جاتے ہو

اب تو خوابوں میں بھی نہیں آتے
درد دل کس قدر بڑھاتے ہو

جب نبھانا تمہیں نہیں آتا
پیار کا ڈھونگ کیوں رچاتے ہو

دل کے ٹکڑے ہزار ہوتےہیں
تیر نظروں سے جو چلاتے ہو

آنکھوں میں ہیں اداسیاں کیسی
حال دل کیوں نہیں بتاتے ہو

کیا سبب ہے کہ بر سر محفل
پیش بیگانے جیسا آتے ہو

نقش ہجر و وصال جان من
خود بناتے ہو خود مٹاتےہو

بارہا تم کو دیکھا جاتا ہے
چھوٹی باتوں پہ منہ پھلاتے ہو

اجنبیت کی بھی ہے حد کوئی
جاتے ہی ہم کو بھول جاتے ہو

مجھ کو جنت کا لطف آتا ہے
اپنی بانہوں میں جب سلاتے ہو

کیا کوئی اور بھی ہے مجھ سا حسیں
ناز جس کا کبھی اٹھاتےہو

کون پونچھے گا اشک غم فاتح
کیا سمجھ کر اسے بہاتے ہو

فاتح چشتی مظفرپوری
11/5/21

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں