سرور ہر دوسرا صدقہ لٹانے آئے ہیں

سرور ہر دوسرا صدقہ لٹانے آئے ہیں

 

عشق و الفت کا چمن آقا لگانے آئے ہیں
بغض و نفرت کو زمانے سے مٹانے آئے ہیں

رب کعبہ نے بنایا قاسم نعمت انھیں
"سرور ہر دوسرا صدقہ لٹانے آئے ہیں”

نور حق نور مبیں بن کر شہنشاہ زمن
ساری دنیا سے جہالت کو مٹانے آئے ہیں

حشر میں اک شور ہوگا مصطفی کو دیکھ کر
عاصیوں کو وہ خدا سے بخشوانے آئے ہیں

اسوۂ حسنہ لیے نور مجسم شاہ دیں
پیار، الفت کا سبق سب کو پڑھانے آئے ہیں

پیکر صدق و صفا اور کعبے کے بدرالدجیٰ
دیپ الفت کا ہر اک دل میں جلانے آئے ہیں

بنت حوا! کیوں نہیں نازاں رہیں تقدیر پر
رحمۃ للعالمیں ان کو بچانے آئے ہیں

عاقب ناشاد پر بھی ہو کرم کی اک نظر
بس یہی فریاد دل کی ہم سنانے آئے ہیں

عاقب چشتی
کیسریا مشرقی چمپارن بہار(بھارت)


 

مرحبا نور خدا صلی علی آئے ہیں

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں