سیرتِ زہرا اگر پڑھ کے سنائی ہوتی

سیرتِ زہرا اگر پڑھ کے سنائی ہوتی
قوم‌کی بیٹی نہ گھر غیر کے پائی ہوتی

دین‌ کا‌ سودا‌ کیا‌ پیٹ کی خاطر تم نے
راستے اور بھی تھے جس سے کمائی ہوتی

تقوی ہوتا جو اگر جبہ و دستار کے ساتھ
در بدر کی نہ یہ ٹھوکر کبھی کھائی ہوتی

جھوٹے پیروں پہ کیا مال نچھاور تو نے
طالب علم کو اک روٹی کھلائی ہوتی

ہے گلہ تم سے فقط اتنا روافض کتو!
شان بو بکر و عمر کی بھی سنائی ہوتی

قوم کو لوٹ لیا نسبتِ اجداد کے ساتھ
دین کے واسطے کچھ جان لگائی ہوتی

چند اشعار لکھے بارے میں رضواں سب کے
اپنے بارے میں بھی کچھ بات بتائ ہوتی

رضوان خالدی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں