شاہِ کوثر بن کے امت کے نگہباں آئے ہیں

شاہِ کوثر بن کے امت کے نگہباں آئے ہیں

طرزِ رضا کی پیروی :
صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

سب حسینوں میں حسیں جانانِ جاناں آئے ہیں
رشکِ خوبانِ جہاں سلطانِ خوباں آئے ہیں

حدّتِ خورشیدِ محشر بھول جاؤگے اٹھو
"آنکھ کھولو غمزدو، دیکھو وہ گریاں آئے ہیں”

نفسی نفسی کا ہے عالم کہتے وہ اِنّی لَہَا
شاہِ کوثر بن کے امت کے نگہباں آئے ہیں

عورتوں کو عزتیں دیں اور یتیموں کو پناہ
محسنِ نسواں نگہدارِ یتیماں آئے ہیں

ختم فرمایا زمانے سے تشدّد کا نشاں
داعیِ امن و اماں محبوبِ رحماں آئے ہیں

شرک کی ظلمت چھٹی وحدت کی پھیلی روشنی
ترجمانِ کبریا وہ جانِ ایماں آئے ہیں

اُن کا ہی مرہونِ منت ہے دوعالم کا جمال
اے مشاہد وجہِ کُن ختمِ رسولاں آئے ہیں

عرض نمودہ : محمد حسین مشاہد رضوی
31 مارچ 2022ء شبِ جمعہ


 

اے شفیع روز محشر، السلام

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has 2 Comments

جواب دیں