شر پسندوں کی حکومت ہے ذرا دھیان رہے

آج کل اوج پہ نفرت ہے ذرا دھیان رہے 

شر پسندوں کی حکومت ہے ذرا دھیان رہے 

آپ انصاف کے طالب ہیں مقابل جن کے 

ان کی مٹھی میں عدالت ہے ذرا دھیان رہے 

صرف اک شخص کی خاطر ذرا دیکھو تو سہی 

کیسی سرگداں صحافت ہے ذرا دھیان رہے 

مہ و خورشید کہاں ! اب یہاں جگنو بھی نہیں 

ہر طرف ظلم کی ظلمت ہے ذرا دھیان رہے 

قتل و غارت گری ہر سمت فساد اور فتنے 

یہی تو جان سیاست ہے ذرا دھیان رہے 

اس سیاست کو ہٹا دو تو ہمیں اور تمہیں 

ایک دوجے کی ضرورت ہے ذرا دھیان رہے 

آخری دور مروت ہے یہ گویا کہ سمیر 

آگے فقدان محبت ہے ذرا دھیان رہے 

مبارک سمیر


خودکشی مت کرو

دل کی پوری آرزو ہونے لگی

ہر ایک ذرہ جو موجود کائنات میں ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں