شکر ہے اللہ کا، ہندوستاں آزاد ہے

جو تھا صدیوں سے مرا دارالاماں ، آزاد ہے
شکر ہے اللہ کا، ہندوستاں آزاد ہے

ملک میں کوئی نہیں اب ناتواں ، آزاد ہے
لگ رہا ہے ہر بشر اب نوجواں، آزاد ہے

ضابطہ ہندوستاں کا کہہ رہا ہے کھل کے یہ
ہر بشر اس ملک میں اب بے گماں آزاد ہے

ہے یہ پندرہویں اگست اور اس کے ہیں فیض و کرم
اس قدر ہر شخص ہے اب شادماں، آزاد ہے

ڈالنا اس میں نہیں کانٹے تعصب کے کبھی
ملک کے اے باسیو ، اب گلستاں آزاد ہے

لوٹ سکتا اب نہیں کوئی بھی ان کی روشنی
خوش ہیں مہر و ماہ سارے ، کہکشاں آزاد ہے

کل تک اپنے گلستاں میں تھی الم کی تیرگی
لگ رہا ہے کس قدر اب ضوفشاں ، آزاد ہے

ملکیت میں ہیں خزانے سارے اپنے ملک کی
ہے زمیں آزاد ” عینی” آسماں آزاد ہے

(جو تھا صدیوں سے مرا دارالاماں ، آزاد ہے)
(شکر ہے اللہ کا، ہندوستاں آزاد ہے)

از: سید خادم رسول عینی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں