شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے

شعور میں کبھی احساس میں بساؤں اسے
مگر میں چار طرف بے حجاب پاؤں اسے

اگرچہ فرط حیا سے نظر نہ آؤں اسے
وہ روٹھ جائے تو سو طرح سے مناؤں اسے

طویل ہجر کا یہ جبر ہے کہ سوچتا ہوں
جو دل میں بستا ہے اب ہاتھ بھی لگاؤں اسے

اسے بلا کے ملا عمر بھر کا سناٹا
مگر یہ شوق کہ اک بار پھر بلاؤں اسے

اندھیری رات میں جب راستہ نہیں ملتا
میں سوچتا ہوں کہاں جا کے ڈھونڈ لاؤں اسے

ابھی تک اس کا تصور تو میرے بس میں ہے
وہ دوست ہے تو خدا کس لیے بناؤں اسے

ندیمؔ ترک محبت کو ایک عمر ہوئی
میں اب بھی سوچ رہا ہوں کہ بھول جاؤں اسے

احمد ندیم قاسمی

يه بھي پڑھيں:

خوف ہوتا نہیں

نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں