سورج کا بخت شام کی چوکھٹ پہ ڈھل گیا

سورج کا بخت شام کی چوکھٹ پہ ڈھل گیا
تاریکیوں کا نور پہ پھر وار چل گیا

جاگی کرن امید کی جگنو کے روپ میں
دیپک سا کوئی شام کی تربت پہ جل گیا

ایسا ہی کوئی حادثہ در پیش تھا مجھے
میں آج کو بچا نہ سکا اور کل گیا

لمحوں کی قدر کیجئے اور جان لیجئے
واپس نہ آیا وقت کی مٹھی میں پل گیا

ایسے کسی کو دوستو مہلت نہیں ملی
وہ خوش نصیب ہے کہ جو گر کر سنبھل گیا

اس نے کسی کے قلب کی دنیا اجاڑ دی
وہ تیر جو نظر کی کماں سے نکل گیا

انگڑائی لی کسی نے نزاکت سے اس طرح
منظر عقیل قوس قزح میں بدل گیا
جمیل حیدرعقیل

 


يه بھي پڑھيں:

تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا

اخبار پڑھ کے میرا کلیجہ دہل گیا

ہونٹوں پہ نعتِ پاک کا مصرع مچل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں