سرور و کیف کا جب بھی سوال آتا ہے

سرور و کیف کا جب بھی سوال آتا ہے
تو یک بہ یک مجھے اُس کا خیال آتا ہے

گھڑی کی چال سے دل کو ملال آتا ہے
کبھی جو یار کا وقتِ وصال آتا ہے

اُدھر وہ عشق کہ دائم رہیں گے جِس کے نقوش
اِدھر یہ حُسن کہ جس پر زوال آتا ہے

وہی ہے پیکرِ مصداقِ مصرعِ رومی
اُسی کے سوزِ تکلُّم سے حال آتا ہے

تمھارے نام سے اُنگلی جہاں بھی رکھتا ہوں
وہ کوئی حرف ہو، بس نیک فال آتا ہے

میں جس کی یاد میں محفل سجائے رہتا تھا
وہ اب تو خواب میں بھی خال خال آتا ہے

عجب ستم ہے کہ جس شخص پر بھی مرتا ہوں
وہ میری لاش سرِ راہ ڈال آتا ہے

مرا سکوت سراسر ہے مصلحت ثاقب!
وگرنہ اب بھی مجھے قیل و قال آتا ہے

(سرور و کیف کا جب بھی سوال آتا ہے)
(تو یک بہ یک مجھے اُس کا خیال آتا ہے)

از قلم: ثاقب قمری مصباحی


 

وحشتِ ہجر ہے، اندیشۂ تنہائی ہے

یہ دھوپ، چاند، ستارے، ہوا، گھٹا، بارش

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں