تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا

تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا
آیا خیال تیرا کلیجہ دہل گیا

کیسے کوئی بھروسا کرے گا بتائیے
انصاف کا جہاں سے جنازہ نکل گیا

نفرت کی کچھ عجیب چلائی گئی مہم
نقشہ ہمارے شہر کا کیسا بدل گیا

میں جھونپڑی میں آج بھی ہوں منتظر ترا
کیوں یار ساتھ چھوڑ کے رہنے محل گیا

پہلے تو مل کے جشن مناتا تھا میرے ساتھ
اے یار ! کیا ہوا کہ تو اتنا بدل گیا

بیٹھا تھا دل چرانے کو دہلیز عشق پر
ٹھوکر لگی کسی کی تو فوراً سنبھل گیا

محسوس ہو رہی ہے جو جلنے کی بو مجھے
"شاید جگر حرارتِ عشقی سے جل گیا”

خوش ہو رہا ہے سوچ کے فارِح ابھی ترا
جو پل گزارا ساتھ وہ انمول پل گیا

(تنہائیوں میں بیٹھ کے کہنے غزل گیا)
(آیا خیال تیرا کلیجہ دہل گیا)

فارح مظفرپوری


يه بھي پڑھيں:

اخبار پڑھ کے میرا کلیجہ دہل گیا

ہونٹوں پہ نعتِ پاک کا مصرع مچل گیا

اک اجنبی کو دیکھ کے ناداں مچل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں