ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی

بفرط شوق مناتے ہیں یوم آزادی

ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی

شہید کتنے یہاں فضل حق ہوئے اب تک

بہا کے اشک بتاتے ہیں یوم آزادی

لہو کو اپنے بہا کر سپوت دھرتی کے

جوانی تُجھ پہ لٹاتے ہیں یوم آزادی

دلوں میں آگ جو نفرت کی جل رہی ہے اسے

امن سے آج بجھاتے ہیں یوم آزادی

حرام روز سیاست میں ملک کے حاکم

تمہارے نام پہ کھاتے ہیں یوم آزادی 

بھلا کے شکوے گلے ہندو اور مسلم کو

گلے لگا کے مناتے ہیں یوم آزادی

ہمیں لڑا کے وہ مذہب کے نام پر شمسی

دکان اپنی چلاتے ہیں یوم آزادی

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی

 

(بفرط شوق مناتے ہیں یوم آزادی)

(ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی)


پھر سے اک بار اسے پیار کروں یا نہ کروں

ہمارے ملک میں آه و فغاں ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں