تشنہ ہونٹوں پہ ہے دعا بارش

چشم نم اب تو کر عطا بارش
تشنہ ہونٹوں پہ ہے دعا بارش

میں بھی رویا تھا اس گھڑی کھل کر
نوحہ گر جب ہوئی ہوا ، بارش

جانے کیوں آج بے قرار لگے
شام کی سیج پر دیا ، بارش

رہ گئیں ہاتھ کی لکیریں فقط
کھا گئی سارے نقش پا ، بارش

تیری فرقت کی رات یوں کاٹوں
اشک در اشک دے خدا بارش

مجھے در پیش رات کا ہے سفر
ان چراغوں کو مت بجھا، بارش

جمیل حیدرعقیل


 

اب ہے آنکھوں کی تمنا بارش

بے وفاؤں کی طرح اس کو رلائی بارش

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں