تو ہے "بھارت” ہے تجھی سے مری پہچان وطن

آج کرتا ہوں سرِ عام یہ اعلان وطن
تو ہے "بھارت” ہےتجھی سے مری پہچان وطن

جاں نثار ایسے ہیں موجود تری دھرتی پر
جو کبھی ہونے نہ دیں گے تجھے ویران وطن

ہم اسی روز انھیں یاد کیا کرتے ہیں
جو تحفظ میں ترے ہو گئے قربان وطن

سربکف سارے تھے آزاد کرانے میں تجھے
وہ مراٹھا ہو یا سکھ ہو یا مسلمان وطن

آج بھی سونے کی چڑیا تجھے کہتے ہیں سبھی
کبھی ویران نہ ہو تیرا گلستان وطن

جاں نثاروں کی بدولت ہے تو محفوظ ابھی
کوئی ہر گز نہیں اس بات سے انجان وطن

تجھ میں رہ کر بھی کیا کرتے ہیں جو غداری
در بدر پھرتے ہیں ہوکر وہ پریشان وطن

درس یکجہتی کا دیتا ہے "نظامی” یہ ہمیں
ہے حقیقت میں محبت کا یہ عنوان وطن

(فضل رب سے تو زمانے میں ہے ذیشان وطن)
(تو ہے "بھارت” ہے تجھی سے مری پہچان وطن)

نتیجہء فکر_______
محمد امیر حمزہ نظامی رانچوی جھارکھنڈ(الہند)


 

جان سے پیارا ہے مجھ کو دوستو اپنا وطن

انوارِ حسن سے ہے بہت ضوفشاں وطن

ہم ہیں اس طرح جاں نثارِ وطن

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں