تو ہی وہ سرورِ کون و مکاں ہے

بنا جس کے لئے سارا جہاں ہے
تو ہی وہ سرورِ کون و مکاں ہے

وہ دل بے حد حسیں ہے جس کے اندر
چراغِ عشق احمد ضو فشاں ہے

اے شہر مصطفیٰ تیری بدولت
زمیں پر رشک کرتا آسماں ہے

بہت خوش بخت ہے وہ شخص جس کی
ثنائے مصطفی ٰ سے تر زباں ہے

تمنا ہے وہاں پر موت آئے
دیارِ سرورِ عالم جہاں ہے

مدینے میں تجھے سنتے ہیں آقا
درودِ پاک تو پڑھتا یہاں ہے

میں ہوں پرواؔنۂِ شمعِ رسالت
ٹھکانہ اس لیے میرا جناں ہے

پرواؔنہ برہانپوری


 

وہاں پر رحمتوں کا سائباں ہے

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں