تجھے وہ ڈھونڈھ ہی لے گا کہ جس کا مدعا تو ہے

حمد باری تعالی

تجھے وہ ڈھونڈھ ہی لے گا کہ جس کا مدعا تو ہے
جہان آب و گل کے ذرے ذرے میں بسا تو ہے

بناے ہیں تجھی نے بحر و بر ، جن و بشر سارے
خدایا خالق لوح و قلم ، ارض و سما تو ہے

الہی بے نیازی کر عطا ہم کو بھی دنیا سے
غنی بھی تو ہے مولا خالق وصف غِنا تو ہے

ترے در سے بھلا اٹھ کر بھی جاؤں تو کہاں جاؤں
مرے پروردگارا مصدر جود و سخا تو ہے

فلسطینی مسلمانوں کو نصرت کا اجالا دے
ہر اک دل کی صدا ہے، دافع ظلم و جفا تو ہے

فقط اک کلمۂ "کن” سے جو چاہا کر دیا تونے
نہیں ہے جس کی کوئی ابتدا و انتہا تو ہے

کہاں جائیں ترے در کے سوا کس کی دہائی دیں
اندھیروں میں بھٹکتے بے بسوں کا رہنما تو ہے

ستاے جا رہے ہیں تیرے بندے ساری دنیا میں
خدایا ہم مسلمانوں کا واحد آسرا تو ہے

جو چاہے مانگ لے شاہد یہاں پر ہاتھ پھیلا کر
تجھے ہے کچھ خبر ناداں کہ کس در کا گدا تو ہے

محمد شاہد علی مصباحی

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

This Post Has 3 Comments

  1. Fahad

    آمیــــن یــــا رب العالمين بجاہ سید المرسلین ﷺ

جواب دیں