تُجھ کو آزادی فرنگی سے دلایا ہے وطن

مرتبہ تیرا زمانے میں بڑھایا ہے وطن
تُجھ کو آزادی فرنگی سے دلایا ہے وطن

فضل حق،اشفاق،ٹیپو،اور ،بھگت، آزاد نے
جان دے کر محترم تُجھ کو بنایا ہے وطن

گوہرعشق ووفاچن لو رہومست ومگن
عشق کا دریا زمانے میں بہایا ہے وطن

کیا تمہیں معلوم ہے اپنے جگر کے خون سے
سونے کی چڑیا تمہیں ہم نے بنایا ہے وطن

جس کی خوشبوسےمعطرہے مشام اہل دل
عشق کا وہ پھول سینے سے اگایا ہے وطن

عظمت و رفعت بتانے کے لیے قرطاس پر
شادماں ہو کر قلم میں نے چلایا ہے وطن

دشمنوں کا ہو دیا یا دوستوں کا، دہر میں
زخم سینے میں چھپا کر مسکرایا ہے وطن

وقت آنے پر تباہی جو مچاتے ہیں انہیں
آج بھی شمسی” گلے اپنے لگایا ہے وطن

(مرتبہ تیرا زمانے میں بڑھایا ہے وطن)
(تُجھ کو آزادی فرنگی سے دلایا ہے وطن)

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی


ہند آزاد ہے ہند آزاد ہے

فضل حق، اشفاق و کافی کا وطن آزاد ہے

لوگ کہتے ہیں مرا ہندوستاں آزاد ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں