تو نے اک ہلچل مچادی نعرۂ تکبیر سے

کردار کی شمشیر

پاے جانبازی نہیں رُکتے کسی زنجیر سے

سچ کبھی مرتا نہیں كِذ ب و جفا کے تیر سے

جنگ میں تعداد سے ہوتا نہیں ہے فیصلہ

فتح و نصرت ملتی ہے کردار کی شمشیر سے

بیٹیوں کو اک نئ تاب و توانائ ملی

اے بہادر ! تیرے سوزِ لہجۂ دلگیر سے

دشمنِ اسلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر

تو نے اک ہلچل مچادی نعرۂ تکبیر سے

بے حیاؤں کو دیا ہے تونے غیرت کا پیام

ظلمتِ الحاد لرزاں ہے تری تنویر سے

جو نکلتے ہیں شریعت کی حفاظت کے لیے

وہ نوازے جاتے ہیں پھر عزت و توقیر سے

دُور کیا ہوگا جفا سے ان کی ہمت کا خمار

جام ملتا ہے جنھیں میخانۂ شبیر سے

سرفروشی کی ادا ، دیتی ہے ایسا ولولہ

جو نہیں ملتا بیان و وعظ اور تقریر سے

مال و جاں سب کچھ لُٹا کر بھی نہ جس کا دل بھرے

عقل و دل عاجز ہیں ایسے عشق کی تفسیر سے

دل سے جو نکلے فریدی ! سچ کا جامہ اوڑھ کر

بات وہ لبریز ہوتی ہے سدا تاثیر سے

از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں