تونے پیشانی پہ جو بل سا سجا رکھا ہے

تونے پیشانی پہ جو بل سا سجا رکھا ہے
دل نے اس بات پہ کہرام مچا رکھا ہے

کوئی ان میں سے تری بات ہی کر لے مجھ سے
میں نے آنگن میں پرندوں کو بلا رکھا ہے

رات بھر اب مجھے سونے ہی نہیں دیتا وہ
دور نیندوں سے جو اک خواب سجا رکھا ہے

پاس الفت نہ سہی میرا بھرم ہی رکھ لے
میں نے لوگوں کو تجھے اپنا بتا رکھا ہے

مجھ کو معلوم ہے یہ تجھ کو بھلا لگتا ہے
میں نے آنگن میں بھی سکھ چین لگا رکھا ہے

تو سمجھ اب کے دعا عرش ہلا چھوڑے گی
ہاتھ تو ہاتھ یہاں سر بھی اٹھا رکھا ہے

اب تو ہر وقت تری یاد یہاں رقص کرے
دل محلے کو کوئی کوٹھا بنا رکھا ہے

مالا راجپوت

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں