اڑتے ہوئے پنچھی کے جو پر کاٹ رہا ہے

غزل

اڑتے ہوئے پنچھی کے جو پر کاٹ رہا ہے

وہ شہر میں ہر ایک کا سر کاٹ رہا ہے 

آرام سے پھر مجھ کو عدو قتل کرے گا

وہ پہلے پہل میری سپر کاٹ رہا ہے

خوش حال زمانے سے تھا جو شخص وطن میں 

صدیوں میں وہ لمحوں کا سفر کاٹ رہا ہے 

کاتب بھی ہوا شہر کا مبہوت کچھ ایسے

اب زیر لگاتا ہے زبر کاٹ رہا ہے

اشجار لگانے کی کسی کو نہیں توفیق

ہر شخص فقط اپنا ثمر کاٹ رہا ہے 

ہو جاؤں گا پابند سلاسل جو بتایا

ہے کون جو آموں کے شجر کاٹ رہا ہے

ہے دوست وہی مجھ کو جو دیتا ہے تسلی

 مخلص ہے وہی جو مرا ڈر کاٹ رہا ہے 

مجبور بہت آج ہے اس دیس کا باسی

کاٹے نہیں کٹتی ہے مگر کاٹ رہا ہے 

موبائل کا فتنہ بھی عجب چیز ہے اصغر 

آباد ازل سے جو ہیں گھر کاٹ رہا ہے

 

آزاد کو کر دیتا ہے پابند سلاسل

اس قوم کے ہاتھوں سے ہنر کاٹ رہا ہے

 

(اڑتے ہوئے پنچھی کے جو پر کاٹ رہا ہے)

(وہ شہر میں ہر ایک کا سر کاٹ رہا ہے )

کامران اصغر


ستارہ اوڑھ کے نکلی ہو جیسے صبح بہار

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں