ان کے حسن و جمال کی بارش

سارے جگ میں کمال کی بارش
ان کے حسن و جمال کی بارش

خوب لکھوں حضور کی نعتیں
دل پر اترے خیال کی بارش

یاد ہے مسجدِ غمامہ تجھے
آمنہ بی کے لال کی بارش

عائشہ آپ نے تو دیکھی ہے
میرے آقا کی شال کی بارش

چند چھینٹے مدینہ بستی کے
وار دوں پورے سال کی بارش

آپ آئیں نہال ہو جاؤں
ہو رہی ہے ملال کی بارش

بندگانِ خدا نہیں ملتے
آئی قحط الرجال کی بارش

محمد رضا نقشبندی


گلی گلی سجائیے مرے حضور آئے ہیں

پڑھ رہے ہیں ماہ و اختر الصلواة والسلام

Share this on

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں