اُن کی جس دم گفتگو ہونے لگی

اُن کی جس دم گفتگو ہونے لگی
زندگانی مُشک بُو ہونے لگی

جس طرف سے بھی گزر اُن کا ہوا
عطر بیزی کُو بہ کُو ہونے لگی

روشنی پھیلی حراے فکر میں
جوں ہی سیرت روبرو ہونے لگی

جو ہوئے ناموسِ آقا پر فدا
اُن کی ہستی سُرخرو ہونے لگی

جادۂ حقّانیت پر جو چلا
اُن کو حاصل آبرو ہونے لگی

جب ہوئی حرفِ ثنا کی آرزو
نوکِ خامہ باوُضو ہونے لگی

جگمگا اُٹّھا مطافِ جاں مرا
دید کی جب آرزو ہونے لگی

سوے طیبہ قافلے جب چل پڑے
سب کو میری جستجو ہونے لگی

اے مشاہدؔ نعتِ سرور کے طفیل
تیری شہرت چار سُو ہونے لگی

(اُن کی جس دم گفتگو ہونے لگی)
(زندگانی مُشک بُو ہونے لگی)

 

عرض نمودہ : محمد حسین مشاہد رضوی


يه بھي پڑھيں:

رسی تو جل چکی ہے ابھی تک نہ بَل گیا

اک ذکرِ وصلِ یار سے کیا کیا بدل گیا

سورج کا بخت شام کی چوکھٹ پہ ڈھل گیا

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں