اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے

مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو

سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیں

انہی سے آنسو آہیں آنگن آنگن ہیں

انہی سے قتل عام ہوا آشاؤں کا

انہی سے ویراں امیدوں کا گلشن ہے

بھوک ننگ سب دَین انہی کی ہے لوگو

بھول کے بھی مت ان سے عرض حال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا

اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو

صبح و شام فلسطیں میں خوں بہتا ہے

سایۂ مرگ میں کب سے انساں رہتا ہے

بند کرو یہ باوردی غنڈہ گردی

بات یہ اب تو ایک زمانہ کہتا ہے

ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو

اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو

جینے کا حق سامراج نے چھین لیا

اٹھو مرنے کا حق استعمال کروب

حبیب جالب

 

https://globalurdu.org/mujhe-dost-banke-dagha-na-de/

 

 

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں