وفا شناس نگاہوں کو پیار دیتا ہے

وفا شناس نگاہوں کو پیار دیتا ہے
وہی چمن کو گلِ خار دار دیتا ہے

وہ بادشاہوں کو دیتا ہے دولتِ دنیا
وہی فقیر کو عز و وقار دیتا ہے

بطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالنے والا
"گلوں کو رنگ، چمن کو بہار دیتا ہے”

اسی نے بخشی ہے طاقت قلم اٹھانے کی
وہ لفظ لفظ کو اک اعتبار دیتا ہے

وہ جانتا ہے دلِ پرسکون کی دھڑکن
وہی خیال کو بالکل نکھار دیتا ہے

وہی چلاتا ہے بادِ نسیم کے جھونکے
وہی تو صبح کو اک شاہ کار دیتا ہے

وہی تو لاتا ہے بادِ سموم کا طوفاں
وہی تو موج کو پل میں قرار دیتا ہے

وہی بجھاتا ہے پل میں غرور کا سورج
وہی چراغ کو طاقِ مزار دیتا ہے

وہی تو رکھتا ہے ماں کے بطن میں بچے کو
وہی خوشی کا عجب انتظار دیتا ہے

وہی تو لیتا ہے نبیوں کا امتحان مگر
انھیں وہی تو بڑے جاں نثار دیتا ہے

اگر چہ رکھتا ہے مشکل میں اپنے بندوں کو
مگر وہی تو انھیں افتخار دیتا ہے

وہی گراتا ہے حسنِ بہار پر اولے
وہی خزاں کو جمالِ بہار دیتا ہے

وہی شجر پہ ٹکاتا ہے آشیانے کو
وہی پرند کو ذوقِ شکار دیتا ہے

گنہ کے بوجھ کو سر سے اتارنے کا سبق
گناہ گاروں کو وہ بار بار دیتا ہے

اسی نے بخشا ہے احسن کو ذوقِ گویائی
وہی شعور کو نظم و شعار دیتا ہے

توفیق احسن برکاتی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں