وہاں پر رحمتوں کا سائباں ہے

وہاں پر رحمتوں کا سائباں ہے
جہاں شاہِ زمن کا آستاں ہے

قسیمِ نعمتِ باری کا رتبہ
ورائے فہم و ادراک و گماں ہے

تمھی ہو ابتدا بھی انتہا بھی
تمھی پر ختم میری داستاں ہے

بروزِ حشر وہ کر دیں شفاعت
یہی بس آرزوئے عاصیاں ہے

مجھے ہو خوف کیوں کر مشکلوں کا
محمد ﷺ نام جب وردِ زباں ہے

جسے کہتے ہیں سب شہرِ مدینہ
رضاؔ جنت کی بھی جنت وہاں ہے

سید رضا گیلانی


ہمارے ملک میں آه و فغاں ہے

 

مرے سرکار کی ایسی زباں ہے

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں