مختصر بحر میں غزل؛ واقعی جھوٹ ہے

مختصر بحر میں غزل؛ واقعی جھوٹ ہے

واقعی جھوٹ ہے

زندگی جھوٹ ہے

ساتھ چلتا نہیں

ہر کوئی جھوٹ ہے

جی بہل جائے گا

آخری جھوٹ ہے

ختم ہو جائے گی

یہ ہنسی؟ جھوٹ ہے

سوچ لو وقت ہے

وقت بھی جھوٹ ہے

پاؤں زخمی ہوئے

واجبی جھوٹ ہے

اوڑھ کر دیکھ لو

سادگی جھوٹ ہے

جاؤ چھوڑو مجھے

مجھ میں ہی جھوٹ ہے

ندیم ملک


یہ سچ ھے کہ بھارت کا ثانی نہیں ھے

ہم کو ہے جاں سے پیارا ہندوستاں ہمارا

ترنگا گھر پہ لگاتے ہیں یوم آزادی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں