وصل کی جب آرزو ہونے لگی

وصل کی جب آرزو ہونے لگی
پِھر ہماری جُستجو ہونے لگی
جان، پر کیسی مصیبت آپڑی
عِشق میں بے آبرو ہونے لگی
اپنی رُسوائی کا سودا کرلیا
دِل لگی جب دُوبدُو ہونے لگی
ذائقہ اُلفت کا دوبالا ہوا
جب محبت سُرخ رُو ہونے لگی
آنکھ، شوقِ دیدِ رُوئے یار میں
پاک ، طاہر با وضو ہونے لگی
فِکر بھی پاکر سراغِ زندگی
مُشکبار و مُشک بُو ہونے لگی
مِل گئی تسکین،روح وقلب کو
جانِ جاں سے گُفتگو ہونے لگی
ہاں ذرا بتلاؤ عارف! عِشق میں
کیسی رنگت اور بُو ہونے لگی

غیاث الدین احمد عارف مصباحی
مہراج گنج ( یوپی)


يه بھي پڑھيں:

دید کی بھی آرزو ہونے لگی

ان سے جب بھی روبرو ہونے لگی

غیر تھے اب گفتگو ہونے لگی

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں