وصل کی جب آرزو اس کو ہوئی

میری دھڑکن مشک بو ہونے لگی
پاس میرے جب بھی تو ہونے لگی

وصل کی جب آرزو اس کو ہوئی
پھر ہماری جستجو ہونے لگی

جب سے اس نے ساتھ چھوڑا ہے مرا
زندگی تب سرخرو ہو نے لگی

درد دل تجھ کو سنایا جس گھڑی
تو ہمارے روبرو ہونے لگی

جس نے تنہائی کا جب رستہ چنا
اس کو میری جستجو ہونے لگی

جس گھڑی لکھی غزل سلمان نے
اس کی شہرت چارسو ہونے لگی

سلمان رضا ہردولی


يه بھي پڑھيں:

آپ سے جب گفتگو ہونے لگی

فکرتیری باوضو ہونے لگی

عشق میں آنسو بہائے ہیں بہت

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں