یہی سبب ہے کہ تو اب بھی مشکلات میں ہے

عروج کی نہ کوئی فکر تیری ذات میں ہے
یہی سبب ہے کہ تو اب بھی مشکلات میں ہے

قبول کرتے ہو غیروں کی برتری خود پر
عجیب پستی تمھارے تخیلات میں ہے

وہ کامیاب زمانے میں ہو نہیں سکتا
عمل، جو چھوڑ کے اُمّید معجزات میں ہے

ہماری قوم کو حاصل ہو برتری کیوں کر
گزرتا وقت جوانوں کا لغویات میں ہے

فضول گوئی کی عادت سی پڑ گئی ہے تمھیں
حدیث اور نہ قرآں تمھاری بات میں ہے

نہ مال و زر نہ مراتب کی خواہشیں کیجے
عروج قوم اگر مقصد حیات میں ہے

نہ صرف اپنے مقاصد کی فکر کر شاہد
تری نجات، تری قوم کی نجات میں ہے

محمد شاہد علی مصباحی

Share this on

Share on facebook
Share on whatsapp
Share on twitter
Share on telegram
Share on email
Share on print

متعلقہ اشاعت

This Post Has One Comment

جواب دیں