یہ جبیں سجدے میں گر ہم نے جھکائی ہوتی

یہ جبیں سجدے میں گر ہم نے جھکائی ہوتی
دشمنوں نے نہ ہمیں آنکھ دکھائی ہوتی

دیکھ کر ظلم و ستم حاکم قریہ کا بھلا
"کوئی بجلی ہی فلک تو نے گرائی ہوتی”

وہ مرے گھر کی خبر کوئ نہ پاتے ہرگز
میرے اپنوں نے اُنہیں گر نہ بتائی ہوتی

دھمکیاں قتل و تشدد کی گیا وہ دے کر
جرم ہوتا جو زباں ہم نے چلائی ہوتی

میں بھی مانند قمر دنیا میں روشن ہوتا
گر مرے حصے میں لوگوں کی بھلائی ہوتی

ہند میں جان نہیں جاتی کسی پہلو! کی
کسی انساں نے مروت جو دکھائی ہوتی

راستے خوں سے کبھی سرخ نہ ہونے پاتے
حاکمِ وقت نے گر ریل چلائی ہوتی

نذر زنداں نہیں ہوتے یہ ہمارے بچے
اپنی مضبوط قیادت جو بنائی ہوتی

گھر نہیں جلتا مرا شمسی اگر حاکم نے
آگ نفرت کی وطن میں نہ لگائی ہوتی

شمس الحق علیمی مہراج گنج یوپی

 

Share this on

متعلقہ اشاعت

جواب دیں